لاہور ہائی کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے سول جج کم مجسٹریٹ ظلِ ہما کو نوکری سے برخاست کردیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار عبد الرحیم کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن نمبر 113 RHC/CJ کے مطابق، معزز جج کے خلاف یہ تادیبی کارروائی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، ظلِ ہما (سول جج کم مجسٹریٹ) کے خلاف ‘پنجاب سول سرونٹس (ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1999’ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ان پر الزام تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہونے اور وہاں سے واپسی (Repatriation) کے بعد وہ اپنی ڈیوٹی سے جان بوجھ کر غیر حاضر رہیں جو کہ بدعنوانی اور مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
‘انکوائری آفیسر کی رپورٹ اور سفارشات’
معاملے کی تحقیقات کے لیے مقرر کردہ انکوائری آفیسر نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں سول جج کے خلاف عائد کردہ مس کنڈکٹ کے الزامات کو درست اور ثابت شدہ پایا۔ الزامات ثابت ہونے پر انکوائری آفیسر نے متعلقہ اتھارٹی کو سفارش کی کہ مذکورہ افسر پر ملازمت سے برطرفی (Dismissal from service) کی بڑی سزا عائد کی جائے۔
‘ذاتی سماعت اور شوکاز نوٹس’
نوٹیفکیشن کے مطابق، انکوائری آفیسر نے خاتون جج کو ان سفارشات کے خلاف اپنا موقف اور وضاحت پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا۔ بعد ازاں، انکوائری آفیسر نے تمام ریکارڈ اور سفارشات لاہور ہائی کورٹ کی معزز اتھارٹی کو ارسال کر دیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز نے بطور اتھارٹی پورے ریکارڈ، کارروائی اور انکوائری آفیسر کی سفارشات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اتھارٹی نے جج ظلِ ہما کو حتمی شوکاز نوٹس جاری کیا اور ذاتی سماعت کے لیے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تاکہ وہ اپنی صفائی پیش کر سکیں کہ کیوں نہ انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا جائے۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی
حکم نامے کے مطابق، شوکاز نوٹس اور طلبی کے باوجود معزز خاتون جج ذاتی سماعت کے لیے ہیرنگ آفیسر (جسٹس مرزا وقاص رؤف) کے سامنے پیش نہیں ہوئیں۔ ان کی عدم پیشی پر ہیرنگ آفیسر نے نوٹ لکھا کہ ملزم افسر کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ انکوائری آفیسر کی برطرفی کی سفارشات سے متفق نظر آتی ہیں۔
حتمی فیصلہ اور برطرفی کا حکم
تمام حقائق، شواہد اور ہیرنگ آفیسر کے نوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز (بطور اتھارٹی) نے جرم ثابت ہونے پر مس ظلِ ہما سول جج کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا حتمی حکم جاری کر دیا۔

