امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی صدر ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ دیدیا۔
امریکی ٹی وی کے مطابق جنرل ڈین کین ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک جنگ بڑھانے کے فوجی آپشن کا نتیجہ اُلٹا نکلنے کا خدشہ ہے اور تنہا فضائی طاقت کی بنیاد پر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
امریکی ٹی وی کے مطابق جنرل کین نے جنگ بڑھانے کیخلاف سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف، وزیرخارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی جنگ ختم کرنے کے امکانات ڈھونڈنے کا ذکر کر چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے معاہدے کے قریب ہیں ، جنگ جلد ختم ہو جائے گی ، ڈونلڈ ٹرمپ
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں زمینی فوج نہیں بھیجنا چاہتے ، امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ فضائی حملوں سے ایران کو ڈیل پر آمادہ کیا جا سکتا ہے تاہم جنرل کین سمیت کئی دیگر کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو گا بلکہ دیگر آپشنز اختیار کیے جانے چاہئیں۔
امریکی ٹی وی نے بتایا کہ ایران میں پلوں اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے ایرانی عوام کی حمایت حاصل ہونے کے بجائے مخالفت بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ آپریشن کے حق میں ہے اور اسرائیل بھی تنازعے کو بڑھانا چاہتا ہے۔
