پشاور ہائی کورٹ نے افغان شہریوں کی پاکستان میں عارضی قیام کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں عارضی قیام، تحفظ اور ویزا سے متعلق سہولتوں کی درخواستیں دائر کرنے والے افغان شہریوں کی درخواستیں خارج کر دیں۔
اس حوالے سے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار بریالی شریفی سابق افغان نیشنل آرمی سے وابستہ رہا ہے، درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان واپسی کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، اس لیے انہیں پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے۔
درخواست میں افغان پاسپورٹ پر ہنگامی طبی علاج کی سہولت، ویزا کی تجدید کے لیے آن لائن درخواست دینے کی اجازت، نیز گرفتاری اور ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کی بھی استدعا کی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ویزا کی تجدید، توسیع اور امیگریشن سے متعلق معاملات مجاز ایگزیکٹو اتھارٹیز کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور ان امور میں عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جب تک کوئی غیر قانونی اقدام یا کسی قانونی حق کی خلاف ورزی ثابت نہ ہو، عدالت درخواست گزاروں کو مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اس معاملے میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا، لہٰذا تمام درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔
دوسری جانب پشاور میں مقیم افغان باشندوں کے مبینہ غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈز کی تصدیق کے بعد متعلقہ اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اطلاعات کے مطابق شہر کے 95 بازاروں میں افغان باشندوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کو فراہم کیے جانے کے بعد آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
افغان شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے، محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کے دستاویزات کے مطابق گزشتہ روز مزید ایک ہزار 826 افغان شہری خیبر پختونخوا کے راستے افغانستان واپس گئے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 12 دہشت گرد ہلاک
433 رجسٹرڈ پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین نے رضاکارانہ طور پر وطن واپسی اختیار کی جبکہ 202 اے سی سی کارڈ ہولڈر بھی افغانستان روانہ ہوئے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق ایک ہزار 168 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی عمل میں آئی جن میں سے 190 افراد کو قانونی کارروائی کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا۔
