امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 228 روپے کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ مہنگائی، پٹرولیم لیوی، بجلی کی قیمتوں اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف شروع ہونے والی تحریک اب نہیں رکے گی، جبکہ 9 اگست کو چاروں صوبوں میں گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤسز کے باہر تاریخی دھرنے دیے جائیں گے۔
لاہور میں احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نومبر میں مینارِ پاکستان پر حکمرانوں سے پوچھا تھا کہ انہوں نے عوام کے لیے کیا کیا، مگر آج نظام خود اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاگیرداروں اور وڈیروں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور وہ مختلف جماعتیں بدل کر مسلسل اقتدار پر قابض رہے ہیں۔
پیٹرولیم لیوی، مہنگائی کے خلاف کراچی امڈ آیا۔۔۔
شاہراہ فیصل بند دھرنا جاری۔۔۔۔Bhatta Levy NaManzoor
Hafiz Naeem#JIProtestAgainstBhattaLevy pic.twitter.com/e1TmVRspB1— Umair Ahmed Siddiqui (@Umairlook) August 7, 2026
انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں عوام نظم و ضبط کے ساتھ سڑکوں پر نکلے ہیں اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے کسی ایمبولینس کا راستہ نہیں روکا۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پٹرول مہنگا فروخت کیا جا رہا ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل ہے، اس کے باوجود عوام سے زیادہ قیمت اور بھاری پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت 228 روپے فی لیٹر کی جائے، بجلی، آٹا اور چینی سستی کی جائے اور حکومت آئی ایم ایف کو جواز بنانا چھوڑ دے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 9 اگست کو لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس، کراچی میں گورنر ہاؤس، پشاور میں گورنر ہاؤس اور کوئٹہ میں احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا احتجاج صرف ٹریلر تھا، اصل تحریک اب شروع ہوئی ہے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
حکمرانوں کے دن گنے جا چکے، عوام نے ظلم کے نظام کو مسترد کر دیا، جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج
انہوں نے مزید کہا کہ غریب، مزدور، کسان اور رکشہ ڈرائیور مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں، جبکہ حکمران عوام کے مسائل سے بے خبر ہیں اور آج غریب کی تنخواہ سے زیادہ بجلی کا بل آ رہا ہے۔
