دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں شمار ہونے والے ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مطابق سر گیری سوبرز نے بارباڈوس میں اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔
سر گیری سوبرز کو کرکٹ تاریخ کے سب سے باصلاحیت اور مکمل کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ شاندار بلے باز ہونے کے ساتھ ساتھ بائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ، آرتھوڈوکس اسپن اور کلائی کی اسپن باؤلنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ ایک بہترین فیلڈر اور سلپ میں غیر معمولی کیچ لینے والے کھلاڑی بھی تھے۔
کرکٹ انفو کی رپورٹ کے مطابق سوبرز نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے 1954 سے 1974 تک 93 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں انہوں نے 8032 رنز 57.78 کی اوسط سے بنائے اور 235 وکٹیں 34.03 کی اوسط سے حاصل کیں۔

ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں آئی سی سی نے مردوں کی کرکٹ کے سالانہ ایوارڈ کا نام “سر گیری سوبرز ایوارڈ” رکھا، جو تینوں فارمیٹس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔
کرکٹ ویسٹ انڈیز نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایک عظیم اننگز اختتام کو پہنچی، ہمارے دلوں میں اب اور ہمیشہ سر گیری سوبرز زندہ رہیں گے۔”
سر گیری سوبرز نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1952-53 میں صرف 16 برس کی عمر میں کیا، جبکہ ایک سال بعد انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ ابتدا میں وہ زیادہ تر بولر کے طور پر ٹیم میں شامل ہوئے، تاہم بعد میں دنیا کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہونے لگے۔
1958 میں پاکستان کے خلاف سبینا پارک جمیکا ٹیسٹ میں سوبرز نے تاریخ رقم کرتے ہوئے 365 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ یہ اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا انفرادی اسکور تھا، جو 1994 تک قائم رہا، بعد ازاں ویسٹ انڈیز کے ہی برائن لارا نے یہ ریکارڈ توڑا۔ سوبرز اس تاریخی موقع پر موجود تھے اور انہوں نے لارا کی کامیابی کو سراہا۔
1968 میں سوبرز نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اور منفرد اعزاز حاصل کیا جب انہوں نے ناٹنگھم شائر کی جانب سے کھیلتے ہوئے گلیمورگن کے میلکم نیش کے ایک اوور میں چھ گیندوں پر چھ چھکے لگائے۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے کھلاڑی بنے۔
بنگلا دیشی آل راؤنڈر محمد سیف الدین نے زمبابوے کے خلاف میچ میں تاریخ رقم کر دی
اپنے طویل فرسٹ کلاس کیریئر میں سوبرز نے 383 میچز کھیلے، جن میں 28 ہزار 314 رنز بنائے اور 1043 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز، بارباڈوس، ناٹنگھم شائر اور ساؤتھ آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔
سوبرز نے ویسٹ انڈیز کی قیادت بھی کی اور 1975 میں کرکٹ کے لیے شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں برطانوی اعزاز نائٹ ہُڈ سے نوازا گیا۔ ان کی وفات کے ساتھ کرکٹ کی دنیا ایک ایسے عظیم کھلاڑی سے محروم ہوگئی جسے نسلوں تک کھیل کے سب سے مکمل آل راؤنڈر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
