آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اورصدراستحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے مطابق ان کے قافلے پر ٹائیں ڈھلکوٹ کے مقام پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس میں ان کا سکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گیا۔
سردار الیاس کے آفیشل فیس بک پیج پر جاری ایک بیان میں حملے کا الزام آزاد کشمیر میں جاری ایک احتجاجی تحریک پر لگاتے ہوئے کہا گیا کہ “مسلح افراد کی جانب سے سابق وزیراعظم کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں انکا ذاتی محافظ ایس ایس جی کمانڈو محمد آصف جام شہادت نوش کر گیا جبکہ قافلے میں شامل متعدد افراد زخمی ہیں۔”
اے جے کے پولیس کی جانب سے تاحال اس واقعے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم جیو نیوز کے مطابق ڈی آئی جی آزاد کشمیر راجہ اکمل کہا کہنا ہے کہ انہیں تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
فیس بک پر جاری بیان کے مطابق حملے میں سردار الیاس کے قافلے میں شامل کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پیج پر مبینہ وقوعے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں ایک زخمی شخص کو اسٹریکچر پر ڈال کر ایمبولینس میں منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اسی پوسٹ میں بتایا گیا کہ سردار تنویر الیاس خان پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے ہمراہ دو روزہ دورے پر راولاکوٹ جا رہے تھے کہ راستے میں یہ واقعہ پیش آیا۔
کارگو طیارہ حادثہ؛ جاں بحق عملے کے اہل خانہ کا بلیک باکس کی تلاش کیلئے عالمی مدد کا مطالبہ
ایک ویڈیو بیان میں مبینہ واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ “پتھر کا جواب پتھر سے اور اینٹ کا جواب اینٹ سے دیا جائے گا۔ ریاست کو ہائی جیک کرنے والوں، لاقانونیت پھیلانے والوں اور ریاست کے اندر را کا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت یا چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔”
دوسری جانب اسی پیج پر پارٹی کے ڈائریکٹر اسٹاف کرنل (ر) محمد اشفاق سے منسوب ایک پوسٹ میں مبینہ حملے میں جاں بحق ہونیوالے سکیورٹی گارڈ کی نمازِ جنازہ کا اعلان بھی کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ “۔۔۔فائرنگ کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سابق وزیراعظم کے ذاتی محافظ سابق ایس ایس جی کمانڈو محمد آصف (ساکن پلندری) کی نمازِ جنازہ آج بعد از نمازِ عشاء جامع مسجد نزد اللہ والی مارکیٹ ، سٹریٹ 43 F-8/1، اسلام آباد میں ادا کی جائے گی۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر مبینہ فائرنگ کے واقعے کو قابل مذمت اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ایسے واقعات سیاسی عمل کو متاثر کرنے کی ایک بزدلانہ کوشش ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں سابق مشیر سردار امتیاز شاہین کے زخمی ہونے اور ایک سیکیورٹی گارڈ کی شہادت پر دلی دُکھ ہے۔”
آزاد کشمیر کے علاقے ٹائیں ڈلکوٹ میں صدر آئی پی پی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کی جانب سے فائرنگ قابلِ مذمت اور افسوسناک ہے۔ ایسے واقعات سیاسی عمل کو متاثر کرنے کی ایک بزدلانہ کوشش ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں سابق مشیر سردار امتیاز…
— Abdul Aleem Khan (@abdul_aleemkhan) July 17, 2026
یاد رہے کہ سردارتنویز الیاس اسی حلقے (ایل اے-22 پونچھ 5، پاچھیوٹ) سے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ان کی سیاست میں آمد سے قبل یہ حلقہ ان کے چچا صغیر چغتائی کا حلقہ انتخاب تھا، جو ایک حادثے میں لقمہ اجل بن گئے تھے۔ 2021 کے انتخابات میں یہاں سے صغیر چغتائی کی بیوہ شاہدہ صغیر ممبر اسمبلی منتخب ہوئی تھیں جبکہ آمدہ انتخابات میں تنویر الیاس کے چچا زاد اور صغیر چغتائی کے صاحبزادے احمد صغیر پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔
تاہم اس خطے میں انتخابات کی روایتی گہما گہمی مہاجرین جموں کشمیر کی 12 نشستوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کی وجہ سے ماند پڑی ہے۔ مظاہرین راولاکوٹ کے کئی مقامات پر دھرنے دیے بیٹھے ہیں جبکہ اس دوران ریاست کے مختلف حصوں میں ہونے والے تصادم کے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
