برطانیہ کی حکمراں لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد وہ پیر 20 جولائی کو برطانیہ کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اینڈی برنہم موجودہ وزیراعظم کیئر اسٹارمرکی جگہ حکومت کی قیادت کریں گے، پارٹی قیادت کے انتخاب میں اینڈی برنہم کوغیرمعمولی حمایت حاصل ہوئی، لیبر پارٹی کے 403 میں سے 379 ارکانِ پارلیمنٹ نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔
جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر پارٹی کے نئے رہنما منتخب ہوگئے۔ اس بھاری اکثریت کو پارٹی کے اندر ان پر بھرپور اعتماد کا اظہارقراردیا جا رہا ہے۔
پارٹی سربراہ منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اینڈی برنہم نے کہا کہ کیئر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے بدترین شکست سے شاندار فتح تک کا سفر طے کیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کامیابی کو مزید آگے بڑھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ لیبر پارٹی کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور پارٹی اس وقت پہلے سے زیادہ متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ کی تشکیل میں لیبر پارٹی کے تمام دھڑوں کو نمائندگی دی جائے گی تاکہ ایک مضبوط اور متحد حکومت قائم کی جا سکے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک نئی کابینہ کے ارکان کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس بارے میں مشاورت کا عمل جاری ہے۔
لندن کے میئر صادق خان ہاؤس آف لارڈز کے رکن مقرر
اینڈی برنہم نے کہا کہ سیاست میں امید کی واپسی کے منتظر علاقوں کی تقدیر بدلنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ ان کے مطابق تمام لیبر ارکان نے ان علاقوں کے عوام کی آواز سنی ہے جو طویل عرصے سے خود کو نظرانداز محسوس کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام دراصل اسی روایتی لیبر پارٹی کی واپسی چاہتے ہیں جس پر وہ اعتماد کرتے تھے اور ان کی جماعت عوام کی اس پکار کا بھرپور جواب دے گی۔
انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کے حوالے سے بھی مفاہمتی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صرف مختلف رائے رکھنے کی بنیاد پر کسی لیبر رکن کو معطل یا سزا نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر لیبر پارٹی اندرونی اختلافات میں الجھی رہی تو وہ دائیں بازو کی سیاست کا مؤثر انداز میں مقابلہ نہیں کر سکے گی۔
نومنتخب سربراہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برطانیہ میں کم تلخ اور زیادہ مثبت سیاسی مکالمے کو فروغ دیا جائے گا تاکہ قومی سیاست میں برداشت، اتفاقِ رائے اور تعمیری سوچ کو فروغ مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کی موجودہ نسل نظام میں مطلوبہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی، اس لیے اب نئے اندازِ فکر اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ برطانیہ کو ایک نئی راہ پر گامزن کرنے، قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
