ملک میں اگلے ایک ہفتے کیلئے ڈیزل 40 روپے اور پیٹرول 10روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان ہے،تاہم قیمتوں میں ہونے والے اس متوقع اضافے کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں کمی بھی متوقع ہے ۔
روزنامہ جنگ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تازہ کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 18 جولائی کی رات سے 40 روپے فی لیٹر تک کا بڑا اضافہ متوقع ہے، جبکہ پٹرول کی قیمت میں بھی تقریباً 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔
دوسری جانب مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے نظام کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ طریقہ کار پہلے سے رائج ہے۔
ہم نیوز کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ بہت سے ممالک میں ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں قیاس آرائیوں اور غیر یقینی صورتحال میں کمی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ردوبدل کا مقصد قیمتوں کو عالمی منڈی کے مطابق رکھنا ہے جب کہ اس نظام کے ممکنہ فوائد اور اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی کا ایک اہم مقصد قیمتوں کے تعین میں حکومتی کردار کو کم کرنا اور نجی شعبے کو زیادہ فعال کردار دینا ہے تاکہ مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق نظام چل سکے۔
ملک میں پیٹرول کی قلت کا خدشہ ، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو مراسلہ ارسال کر دیا
انہوں نے کہا کہ قیمتیں فطری طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں اور کبھی ایک سطح پر برقرار نہیں رہتیں اگر حکومت مصنوعی طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے تو سپلائرز سپلائی روک سکتے ہیں جس سے مارکیٹ میں قلت (شارٹیج) پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
مشیر وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت ایسی پالیسیوں پر غور کر رہی ہے جن سے مارکیٹ میں شفافیت، مسابقت اور صارفین کے لیے بہتر نظام کو فروغ دیا جا سکے تاہم کسی بھی نئے نظام کو نافذ کرنے سے قبل اس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
قبل ازیں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے این سی ایم سی نے اہم فیصلے کر لیے۔نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) کے اجلاس میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور سپلائی کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، این سی ایم سی کے اراکین، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)، کسٹمز ایف بی آر، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور دستیاب اسٹاک ملکی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین، حکومت کا نیا طریقہ کار سامنے لانے پر غور
اجلاس میں کہا گیا کہ جولائی کے پہلے 15 روز کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں غیر معمولی اضافے کے باعث سپلائی سے متعلق خدشات پیدا ہوئے تاہم او سی اے سی کے نمائندوں نے ان خدشات کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کے ذریعے انہیں دور کر دیا ہے۔
اوگرا کے تجزیے میں ممکنہ قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر ذخیرہ اندوزی کے خدشات کی نشاندہی کی گئی جس پر این سی ایم سی نے اوگرا کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر انفورسمنٹ یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔
عالمی منڈی میں تیار پیٹرول سستا ہوگا تو اس کا فائدہ پاکستان میں صارفین کو بھی ملے گا، وزیر پیٹرولیم
اجلاس میں صوبائی حکومتوں کو بھی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو ملک بھر میں ایندھن کی مسلسل اور بلا رکاوٹ سپلائی برقرار رکھنے کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھنے کی تاکید کی گئی۔
