مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے نظام کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ طریقہ کار پہلے سے رائج ہے۔
ہم نیوز کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ بہت سے ممالک میں ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں قیاس آرائیوں اور غیر یقینی صورتحال میں کمی آتی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے این سی ایم سی کے اہم فیصلے
انہوں نے کہا کہ اس ردوبدل کا مقصد قیمتوں کو عالمی منڈی کے مطابق رکھنا ہے جب کہ اس نظام کے ممکنہ فوائد اور اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی کا ایک اہم مقصد قیمتوں کے تعین میں حکومتی کردار کو کم کرنا اور نجی شعبے کو زیادہ فعال کردار دینا ہے تاکہ مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق نظام چل سکے۔
انہوں نے کہا کہ قیمتیں فطری طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں اور کبھی ایک سطح پر برقرار نہیں رہتیں اگر حکومت مصنوعی طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے تو سپلائرز سپلائی روک سکتے ہیں جس سے مارکیٹ میں قلت (شارٹیج) پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین، حکومت کا نیا طریقہ کار سامنے لانے پر غور
مشیر وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت ایسی پالیسیوں پر غور کر رہی ہے جن سے مارکیٹ میں شفافیت، مسابقت اور صارفین کے لیے بہتر نظام کو فروغ دیا جا سکے تاہم کسی بھی نئے نظام کو نافذ کرنے سے قبل اس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
