واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں سے متعلق متعدد اہم دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے بڑے پیمانے پر اپنے جدید میزائل استعمال کر لیے ہیں، تاہم گزشتہ پانچ دنوں میں داغے گئے تمام میزائلوں کو مار گرایا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ میزائل موجود ہیں، اسی لیے خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، جبکہ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ ایران کے پاس میزائلوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ہفتے ایران پر مختلف اقسام کے حملے کیے جا سکتے ہیں۔ اور اگلے ہفتے ایران پر حملے مزید بڑھ جائیں گے۔ ایران کو بری طرح اور زوردار نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور ایرانی فوج کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اگر حملے اس مرحلے پر روک دیئے جائیں تو بھی ایران کو اپنے ملک کی تعمیر نو میں تقریباً 20 سال لگ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کو تین مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکا اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کو کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں فیس عائد کرنا چاہتا تھا تاہم اتحادی ممالک نے منع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران پر حملہ ، پاسداران انقلاب کا خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر جوابی وار
امریکی صدر نے کہا کہ ایران جب تک مذاکرات کی میز پر نہیں آتا حملے ہوتے رہیں گے۔ ایران معاہدہ کرتا ہے اور توڑ دیتا ہے۔
