گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں فرسٹ کلاس کرکٹ کے معیار کا ایک بھی اسٹیڈیم موجود نہیں، جبکہ کھیلوں کے میدانوں اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کے باعث نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے نہیں بڑھ پا رہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے نصف سے زائد کھلاڑیوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، تاہم صوبے میں معیاری کرکٹ انفراسٹرکچر اورجدید تربیتی سہولیات کا فقدان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک جانے والے کئی باصلاحیت کھلاڑی ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلوں سے باہر ہو جاتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوان کھلاڑی بہتر سہولیات، جدید کوچنگ اور عالمی معیار کی تربیت کے مستحق ہیں۔
کھیلوں کے میدان آباد ہونے سے نہ صرف نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے گا بلکہ منفی رجحانات کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے قومی کھیل ہاکی کی بحالی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس کھیل کی ترقی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ پاکستان دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی شناخت حاصل کر سکے۔
آزاد کشمیر کے حالات پر تشویش ہے، پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہے، بلاول بھٹو
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا چیمپئن لیگ کے انعقاد کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، جبکہ لیگ کی افتتاحی تقریب 18 جولائی کو منعقد ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ سے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع ملے گا اور صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔
