واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نئے حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔ خاص طور پر ان عسکری وساٗل کو جنہیں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور تجارتی جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل سینٹکام کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بحری ناکہ بندی امریکی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے نافذ کی جائے گی۔
At 3 p.m. ET today, U.S. Central Command forces began launching an additional round of strikes against Iran to continue degrading Iranian capabilities used to attack commercial shipping in the Strait of Hormuz. The strikes are taking place as American forces prepare to resume the…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 14, 2026
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیں گے۔
اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں کہ بس بہت ہو گیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے منگل کو ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ایران کو مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا موقع دیا، ایران میں توانائی کے اہداف کو آخری مرحلے میں دیکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان کر دیا
انہوں نے دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا اور مذاکرات پر آمادہ نہ ہوئے تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جائیں۔
