امریکا کی جانب سے مسلط جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں اراکین نے مفاہمتی یادداشت ختم کرنے اور امریکا سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کا مطالبہ کیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے 180 اراکین نے مطالبہ کیا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم کرکے نیا راستہ اختیار کیا جائے۔
چار ماہ بعد منعقد ہونے والے اس اجلاس میں ضوابط میں ترامیم بھی منظور کی گئیں جن کے تحت ہنگامی حالات میں ورچوئل اجلاس منعقد کیا جا سکے گا، اجلاس میں آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک منیجمنٹ سے متعلق بل بھی پیش کیا گیا۔
290 رکنی پارلیمنٹ میں 180 اراکین نے بیان جاری کرکے امریکا سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کا مطالبہ کیا، کئی اراکین انتقام کی نشانی سرخ پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے۔
امریکا کا ایران پر حملہ ، پاسداران انقلاب کا خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر جوابی وار
اجلاس میں مسلح افواج کی مکمل حمایت کرنے کا عہد کیا گیا اور خصوصی مذاکراتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جو مستقبل کی سفارتی حکمت عملی اور بین الاقوامی مذاکرات کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گا۔
واضح رہے 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین گزشتہ ہفتے روضہ حضرت امام علی رضاؓ کے احاطے میں کر دی گئی۔
اس سے پہلے ایران کے شہید رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے ، آیت اللّٰہ خامنہ ای کی میت کو کربلا میں امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے روضوں پر لے جایا گیا۔
شہید سپریم لیڈر کو آخری الوداع کہنے کے لیے مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا، بچے، بڑے، بوڑھے ، جوان اور خواتین سب نے ہی شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جلوس کے شرکاء نے ایرانی پرچم، تصاویر اور انتقام کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
