بھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق ہزاروں حساس فائلیں ڈیٹا بریچ کے بعد ڈارک ویب پر سامنے آ گئیں، جن میں مبینہ طور پر پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات اور دیگر اہم دستاویزات شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رینسم ویئر گروپ ’’ورلڈ لیکس‘‘ نے ڈارک ویب پر بڑی تعداد میں فائلیں جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ڈیٹا ریلائنس گروپ سے حاصل کیا گیا ہے، جو کڈنکولم پلانٹ کے تعمیراتی منصوبے میں ایک کنٹریکٹر ہے۔
بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ریلائنس گروپ نے تصدیق کی ہے کہ تھرڈ پارٹی بھارتی ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والے ادارے یوٹا کے سرور پر موجود اس کے ڈیٹا میں جزوی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ واقعے سے متعلق حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔
بھارتی ہیکرز کا چین اور پاکستان پر سائبر حملہ
کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ ریاست تامل ناڈو میں واقع بھارت کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے، جو بھارت میں جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر لیک ہونے والی معلومات حقیقی ہیں تو یہ پلانٹ کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کے مطابق ایسی معلومات مخالف عناصر کو پلانٹ کے معاون نظام، سپلائرز اور ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اس نے لیک ہونے والی دستاویزات کا جائزہ لیا، جو 2016 سے 2025 کے وسط تک کی تاریخوں پر مشتمل ہیں، تاہم ان کی اصلیت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان فائلوں میں مبینہ طور پر پلانٹ کے یونٹ 3 اور 4 کے وینٹی لیشن اور کولنگ سسٹمز کے نقشے، کنٹرول روم کا فلور لے آؤٹ، آلات کے معائنے کی رپورٹس، سپلائرز کی فہرستیں، اجلاسوں کے ریکارڈ اور انشورنس پالیسیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر ریلائنس سے متعلق مجموعی طور پر 8 لاکھ 58 ہزار فائلیں موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جن میں تقریباً 19 ہزار فائلوں کو سب سے زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے۔
ریلائنس انفرااسٹرکچر نے 2018 میں کڈنکولم پلانٹ کے یونٹ 3 اور 4 کے لیے انفرااسٹرکچر ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ دونوں یونٹس، جو ابھی زیر تعمیر ہیں، 2027 تک فعال ہونے کی توقع ہے اور ان سے مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
امریکا میں سائبر حملوں کے بعد ہیکرز سے ڈیٹا کی واپس کیلئے رابطے شروع
یوٹا ڈیٹا سینٹر نے بتایا کہ 29 مئی کو ریلائنس انفرااسٹرکچر کے سرور پر مشکوک سرگرمی نوٹ کی گئی تھی، جسے فوری طور پر روک دیا گیا۔ ادارے کے مطابق ممکنہ رینسم ویئر حملے کو ناکام بنایا گیا، تاہم جون کے آخر میں ریلائنس نے بیرونی ہیکرز کی جانب سے ڈیٹا چوری کے دعووں سے آگاہ کیا۔
بھارتی جوہری توانائی ادارے، سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم اور دیگر متعلقہ ادارے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام نے حساس نوعیت کے باعث اس حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویزات جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے متعلق نہیں لگتیں، کیونکہ یہ نظام روسی سرکاری کمپنی روس ایٹم فراہم کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ معاون نظاموں اور سکیورٹی ڈھانچے سے متعلق معلومات بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کڈنکولم پلانٹ سائبر واقعے سے منسلک ہوا ہو۔ 2019 میں بھی پلانٹ کے انتظامی نیٹ ورک پر شمالی کوریا سے منسلک ہیکر گروپ کے میلویئر کا انکشاف ہوا تھا، تاہم حکام کے مطابق اس وقت جوہری نظام متاثر نہیں ہوئے تھے۔
