امریکہ کی ریاست یوٹاہ میں ایک مسلمان کو مذہب کی بنیاد پر چاقو کے متعدد وار کر کے لہولہان کرنیکا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے اعتراف کیا کہ اس نے متاثرہ شخص کو مسلمان ہونے کی وجہ سے قتل کرنے کی نیت سے نشانہ بنایا۔ عدالت میں جمع کرائے گئے ریکارڈ کے مطابق ملزم نے کہا کہ وہ “مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا ہے” اور اگر اسے رہا کیا گیا تو وہ عوام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ ویسٹ ویلی سٹی کے ویلی فیئر مال میں پیش آیا، جہاں متاثرہ شخص ایک کیوسک پر کام کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ شخص کے جسم پر چاقو کے متعدد زخم آئے اور وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
عینی شاہدین نے حملہ آور کو قابو میں کر کے زمین پر گرایا، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا۔
Muslim guy stabbed by unhinged, deranged low iq white man. Exercise your second ammendement folks!! #fifaworldcup #espfra pic.twitter.com/0zsrRK8XJ8
— KING KAI (@kair0e) July 14, 2026
ملزم کی شناخت 48 سالہ پیٹر مائیکل لارسن کے نام سے ہوئی ہے، جسے اقدام قتل اور خطرناک ہتھیار کے استعمال کے الزامات میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے پہلے متاثرہ شخص سے اس کا نام اور مذہب پوچھا، پھر پانی مانگا، اور جیسے ہی متاثرہ شخص پانی لینے کے لیے مڑا، اس پر حملہ کر دیا۔
متاثرہ شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور اسے کئی سرجریز کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول کونسل آن اسلامک۔امیریکن ریلیشنز نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسلاموفوبیا میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکہ میں اسلاموفوبیا کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی مختلف وجوہات میں سیاسی بیانیہ، امیگریشن پالیسیاں اور عالمی تنازعات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 2023 میں امریکی ریاست الینوائے میں ایک 6 سالہ مسلمان بچے کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا جس کے قاتل کو 53 سال قید کی سزا سنائی گئی اور وہ جیل میں ہی مر گیا تھا۔
اسی سال میں سان ڈیاگو کی ایک مسجد پر فائرنگ میں دو نوعمر مشتبہ افراد سمیت پانچ افراد جانبحق ہوئے تھے۔
