اسلام آباد: پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نےکہا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت سے متعلق جاری بحث پر مفتی تقی عثمانی سے اہم ملاقات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں پاکستان کے شہریوں کو مالی فراڈ، استحصال اور ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے مشترکہ مقصد پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے بعد جاری بیان میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، بلاک چین، اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزڈ حقیقی اثاثے مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل ہیں، اس لیے ان کا جائزہ صرف ایک زاویے سے نہیں بلکہ تکنیکی اور شرعی دونوں پہلوؤں سے تفصیل کے ساتھ لیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں مسلسل تبدیلیاں آ رہی ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ ممتاز علما، ریگولیٹرز اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رکھی جائے تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں اور جدید ٹیکنالوجی کی مکمل سمجھ بوجھ کے مطابق تشکیل دی جا سکے۔
Today, I had a constructive discussion with Mufti Taqi Usmani Sahib on digital assets and the ongoing conversation around their Shariah status.
We are united on one fundamental objective: protecting Pakistanis from fraud, exploitation, and financial harm.
I shared that…
— Bilal bin Saqib MBE (@Bilalbinsaqib) July 11, 2026
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جو عوام کے تحفظ، شفافیت اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے معروف اسلامی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی سے متعلق نیا شرعی فتویٰ جاری کرتے ہوئے اسلامی شریعت کی روشنی میں کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا تھا، یہ فتویٰ دارالعلوم کراچی سے وابستہ علما کی جانب سے آن لائن جاری کیا گیا ۔
فتوے میں کہا گیا کہ یہ شرعی حکم صرف کرپٹو کرنسی تک محدود نہیں بلکہ کرپٹو ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز، جیسے یو ایس ٹی ڈی (USDT)، پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
خیبر پختونخوا کا نومبر میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکیسن مہم شروع کرنیکا فیصلہ
فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی اسلامی اصولوں کے مطابق مال یا قابلِ ملکیت اثاثہ نہیں، اس لیے اس کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ کسی ڈیجیٹل اثاثے کا صرف الیکٹرانک شکل میں موجود ہونا اسے شرعی اعتبار سے مال قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔
فتوے میں کہا گیا کہ کسی چیز کا نام یا اصطلاح تبدیل کرنے سے اس کی شرعی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی، اس لیے کرپٹو اثاثوں کو مختلف ناموں سے متعارف کرانے سے ان کی خرید و فروخت کے شرعی حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
