ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو تا حکم ثانی بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایک بحری جہاز نے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی جس پر انتباہی فائرنگ کی گئی.
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اطلاع تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر دشمن اس واقعے کو بہانہ بنا کر کسی بھی قسم کی غلطی کرتا ہے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور خطے میں موجود نئے فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکا نے ڈیل کے تحت وعدے پورا نہ کیے تو مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کر دیں گے ، ایرانی سفیر
دریں اثناء اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ڈیل کے تحت اپنے وعدے پورا نہ کیے تو ایرانی حکومت مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کر دے گی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیرسعید ایراونی نے 7 اور 8 جولائی کو ایرانی جزائر اور جنوبی شہروں پر امریکی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی اور باہمی مفاہمتی یادداشت کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے خلاف ورزیاں جاری رکھیں تو ایران بھی اپنی ذمہ داریاں پورا کرنے کا پابند نہیں رہے گا۔
والد کے قتل کا بدلہ لے کر رہوں گا، خامنہ ای کے بیٹے اور موجودہ ایرانی سپریم لیڈر کا اعلان
گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے والد اور سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لے کر رہیں گے۔
We pledge to avenge your pure blood and the blood of all the martyrs of these two [recent] wars by taking revenge against the criminal, disgraceful murderers. This vengeance is what our nation is demanding, and this must definitely be done.
— Ayatollah Mojtaba Khamenei (@MKhamenei_ir) July 11, 2026
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں کہا کہ میرے شہید والد کے خون کا بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے اور یہ ضرور لیا جائے گا۔
ان کا یہ بیان مشہد میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد سامنے آیا جس میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کرکے اپنے قائد کو عقیدت اور احترام کے ساتھ الوداع کہا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔
ایکس پر پوسٹس کی ایک سیریز میں انہوں نے “ایران اور عراق، خصوصاً تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں” کو شہید خامنہ ای کے جنازے میں شریک ہونے پر “دل کی گہرائیوں سے” شکریہ ادا کیا۔
والد کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ “ہمارے شہید قائد کے مجرم اور رسوا قاتل، جن کے نام اوپر سے نیچے تک مکمل طور پر ریکارڈ پر موجود ہیں، اپنے بستر پر پُرسکون موت مرنے کا خواب کبھی پورا نہیں کر سکیں گے، بلکہ یہی خواب اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔”
