امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے، جس پر امریکا نے بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے سفارتی ذرائع سے برقرار ہیں اور اختلافات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ بندی کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے، تاہم خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطوں کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جمعہ کے روز ایران پہنچا، جہاں وہ خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس دورے کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد قطر کے ثالثی کردار کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے مبینہ واقعے اور اس کے بعد ایران کے فوجی اور شہری اہداف پر امریکی حملوں کے تناظر میں علاقائی صورتحال حساس بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب صورتحال سے آگاہ ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ قطری مذاکرات کار ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور وسیع تر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ ذریعے کے مطابق یہ سفارتی رابطے امریکا کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق قطر ماضی میں بھی ایران اور امریکا سمیت مختلف علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے جبکہ موجودہ سفارتی کوششوں کا مقصد بھی خطے میں استحکام کو فروغ دینا اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔
تنازعات کا حل سفارت کاری اور مذاکرات ہیں، قطری وزارت خارجہ
ادھر ایران سے متعلق صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جہاں رکن ممالک نے خطے کی تازہ صورتحال اور ایران امریکا تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں فرانس کے مستقل مندوب نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔
حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو خطے میں تناؤ کم کرنے اور ممکنہ سیاسی پیش رفت کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
