یورپی یونین نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر الزام عائد کیا ہے کہ ان میں موجود کچھ فیچرز صارفین، خصوصاً نوجوانوں، کو طویل وقت تک مصروف رکھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، اور کمپنی کو فوری تبدیلیوں کا حکم دیا ہے۔
یورپی کمیشن کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انسٹاگرام اور فیس بک میں آٹو پلے، انفینیٹ اسکرول اور انتہائی ذاتی نوعیت کی تجاویز جیسے فیچرز صارفین کو مسلسل مواد دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے اس کی عادت اور غیر معمولی حد تک زیادہ استعمال کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ میٹا ان خطرات کا مناسب اندازہ لگانے اور انہیں کم کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ موجودہ حفاظتی اقدامات جیسے اسکرین ٹائم کنٹرول اور پیرنٹل کنٹرول مؤثر نہیں ہیں۔
یورپی یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ میٹا ان فیچرز کو ڈیفالٹ طور پر بند کرے، مؤثر وقفے متعارف کرائے اور اپنے الگورتھم کو کم سے کم “انگیجمنٹ ڈرِون” بنائے۔
In the EU, social media platforms are accountable for their addictive designs.
Our investigation of Instagram and Facebook shows Meta has not adequately assessed the risks of features such as infinite scroll, autoplay, push notifications, and recommender systems.
Meta can now… pic.twitter.com/2oaLNzory7
— European Commission (@EU_Commission) July 10, 2026
دوسری جانب میٹا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے اقدامات کر چکا ہے، جن میں “ٹین اکاؤنٹس” شامل ہیں جو اسکرین ٹائم محدود کرنے اور رات کے وقت رسائی روکنے کی سہولت دیتے ہیں۔
یورپی یونین کے ٹیک حکام کا کہنا ہے کہ اگر میٹا نے مطلوبہ تبدیلیاں نہ کیں تو کمپنی کو عالمی سالانہ آمدن کا 6 فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے، اور مختلف ممالک سخت قوانین یا پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔
