امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیٹرول پر لیوی کی مد میں جگا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، پیٹرولیم لیوی، بجلی و گیس کے بلوں اور مہنگائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد مزید تیز کرے گی اور جلد ملک بھر کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنگی حالات کے دوران حکومت نے عالمی مارکیٹ کا جواز بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، لیکن جنگ بندی اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود عوام کو اس کا ریلیف نہیں دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پیٹرول پر فی لیٹر 80 روپے لیوی عائد کر رکھی ہے اور اس مد میں اب تک ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے افراد سے بھی ٹیکس وصول کیا جن پر ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود ملک کی ریفائنریز میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں لائی گئی، جس سے حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں صرف جماعت اسلامی ہی عام آدمی کے مسائل اور حقوق کی بات کرتی ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی ایک عوامی اور منظم جماعت ہے جو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے دوچار شہریوں کی آواز بن کر میدان میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام بجلی اور گیس کے بھاری بلوں سے شدید پریشان ہیں جبکہ کسان، مزدور اور دیگر محنت کش طبقات بھی بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان نے الزام لگایا کہ حکومتی پالیسیاں عوام کو کرپشن کی طرف دھکیل رہی ہیں جبکہ حکمران خود بھی کرپشن میں ملوث ہیں۔
وزیراعظم کی بینکوں کو ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی ہدایت
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی طاقت کے ذریعے حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو تباہ نہیں ہونے دیں گے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی بہت جلد ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کرے گی تاکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
