کراچی: نجی کمپنی کے لاپتہ کارگو طیارے کی تلاش کے لیے پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے نے سمندر میں 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی کارروائی کے دوران لاپتہ طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے۔ طیارے کا ملبہ اوڑمارہ کے ساحل سے 53 ناٹیکل میل جنوب میں ملا۔

ترجمان نے بتایا کہ مزید شواہد اور طیارے کے عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
سرچ آپریشن میں پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کے بحری اور فضائی اثاثے حصہ لے رہے ہیں، جبکہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تلاش کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں لاپتہ ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے رابطہ منقطع ہونے سے قبل نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی، جس پر کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر عملے کو تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔
اتھارٹی کے مطابق ریڈار پر طیارے کو تیزی سے بلندی کھوتے اور اپنی سمت تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد اس سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔

قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ طیارے نے دوران پرواز نیویگیشن مسئلے کی اطلاع دی تھی، پائلٹ نے اے ٹی سی سے ہیڈنگ کی درخواست کی، جس پر طیارے کو موجودہ سمت برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے بتایا کہ لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ مختلف متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر تلاش کی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

پی اے اے نے بتایا کہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا دیکھا گیا اور طیارے نے اچانک اپنی سمت تبدیل کی۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طیارہ اچانک دائیں جانب مڑا اور تیزی سے بلندی کھونے لگا، طیارے کی نیچے آنے کی رفتار تقریباً 15 ہزار فٹ فی منٹ ریکارڈ ہوئی اور اے ٹی سی کی متعدد کالز کے باوجود طیارے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
پاک بحریہ کے جنگی جہاز، پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے۔ اسی طرح پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے تجارتی جہاز کو بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔
طیارے میں سوار افراد کی تفصیلات
شارجہ سے کراچی آتے وقت لاپتہ ہونے والے طیارے کے عملے میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، ساتھی پائلٹ فیصل جتوئی، انجنیئر محمد حامد، محمد عارف صدیقی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے کا لینڈ سلائیڈنگ الرٹ، پہاڑی علاقوں میں احتیاط کی ہدایت
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق نجی ایئرویز کی اس کارگو پرواز میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طیارے اور عملے کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے، جبکہ مزید معلومات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
