اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک ناخوشگوار واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس پر صارفین کی جانب سے کافی تنقید و تبصرے کیے جارہے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کئی طلبہ کے درمیان وردی میں ملبوس ایک شخص ہاتھ میں چھڑی لیے نظر آرہا ہے، جس کی طلبہ کے ساتھ گرما گرمی ہورہی ہے اور بعد ازاں صورت حال مزید خراب ہوجاتی ہے اور وردی میں ملبوس شخص اور طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوجاتی ہے، اس دوران وہ شخص پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کردیتا ہے۔
مذکورہ واقعے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم طلبہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں اپنے ایک استاد کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
دوسری جانب ڈان نے اس حوالے سے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ واقعے میں فائرنگ کرنے والے شخص کو تحویل میں لے کر ان کے خلاف ادارہ جاتی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقع پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا فوجی افسر کوانکے ادارے نےتحویل میں لیکرانکوائری شروع کر دی ہےفوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی pic.twitter.com/Hzq6vPFjOz
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 24, 2026
علاوہ ازیں سینئر صحافی حامد میر نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ “اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی، اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا۔ فوجی افسر کو ان کے ادارے نےتحویل میں لے کر انکوائری شروع کر دی ہے، فوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی۔”
