راولپنڈی: آر پی او راولپنڈی ریجن بابر سرفراز الپا نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حنا جاوید کے قتل کیس کی تفتیش تمام سائنسی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے اور مقدمے کو حقائق کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
آر پی او راولپنڈی ریجن بابر سرفراز الپا اور سی پی او حسن مشتاق سکھیرا نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 20 اگست کو حنا جاوید کے قتل کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ صبح تقریباً 6 بجے گھر میں چوروں کے داخل ہونے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی تو حنا جاوید کی لاش واش روم میں لٹکی ہوئی ملی۔
انہوں نے کہا کہ پہلی نظر میں ہی شبہ ہوا کہ واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے شوہر، ملازم اور سسر کے خلاف درج کیا گیا ہے جبکہ کیس کی تفتیش کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
بابر سرفراز الپا نے کہا کہ مقتولہ کے سسر نے ہی پولیس کو واقعے کی اطلاع دی تھی، تاہم انہیں بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔ کیس میں ڈی این اے سمیت تمام سائنسی اور فرانزک پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے فی الحال بعض تفصیلات بتانا مناسب نہیں۔ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھیں گی، جس شخص کا جتنا کردار سامنے آئے گا، اسے اسی کے مطابق مقدمے میں نامزد کیا جائے گا۔
آر پی او راولپنڈی نے کہا کہ اگر مقتولہ کے سسر کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں سائرہ افضل تارڑ نے حنا جاوید کے لیے دعائے مغفرت کرائی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور ارکان کی جانب سے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی بنائی ہے۔ اور خصوصی پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا کہہ دیا ہے۔ ملزموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

