مچھر کے کاٹنے یا جلد پر خارش ہونے کی صورت میں اسے کھجانا وقتی طور پر سکون تو دیتا ہے، مگر سائنسی تحقیق کے مطابق یہ عادت مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہم خارش کرتے ہیں تو جلد میں سوزش بڑھ جاتی ہے اور مدافعتی نظام کے خلیے اس مقام پر زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں خارش اور سوجن میں اضافہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر خارش کو نظر انداز کیا جائے تو یہ چند منٹوں میں کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسے کھجایا جائے تو یہ کئی دنوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔
سائنسدانوں نے اس عمل کو سمجھنے کے لیے چوہوں پر تجربات کیے، جہاں انہیں خارش ہونے کے باوجود کھجانے سے روکا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن چوہوں نے خارش نہیں کی، ان میں سوزش اور جلدی ردعمل نمایاں طور پر کم تھا۔
ماہرین کے مطابق خارش کرنے سے درد محسوس کرنے والے اعصابی خلیے ایک خاص کیمیکل خارج کرتے ہیں، جو مدافعتی خلیوں کو مزید متحرک کر دیتا ہے، یوں خارش اور سوزش کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ دیکھنا صحت کے لیے بھی فائدہ مند؟ تحقیق میں دلچسپ انکشاف
دلچسپ بات یہ ہے کہ خارش کرنے سے وقتی سکون اس لیے ملتا ہے کیونکہ یہ عمل دماغ کو ایک مثبت ردعمل دیتا ہے، تاہم اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خارش کی صورت میں اینٹی ہسٹامین ادویات، ہائیڈروکارٹیزون کریم، کیلامائن لوشن یا ٹھنڈک دینے والی کریمیں استعمال کی جائیں۔ اس کے علاوہ مینتھول والی کریمیں وقتی طور پر جلد کو ٹھنڈک کا احساس دے کر خارش کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خارش سے بچنا مشکل ہوتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ اسے کھجانے سے گریز کیا جائے تاکہ جلد کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
