اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس میں گرفتار ملزم کو شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ملزم کو شناختی پریڈ کے عمل کے لیے جیل منتقل کیا جائے اور آئندہ سماعت پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا اوراسے ڈھکے ہوئے چہرے کیساتھ عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کی شناختی پریڈ کرانا تفتیش کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے اسے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔
اسلام آباد: گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کا قاتل 9 گھنٹے میں گرفتار
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ملزم پر سنگین نوعیت کے جرم کا الزام ہے، لہٰذا شناختی پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ دینا ضروری ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کیا جائے اوراسے 20 جولائی 2026 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرمقررہ مدت تک شناختی پریڈ نہ ہو سکے توآئندہ پیشی پر ملزم کو جسمانی طور پر پیش کرنے کے بجائے صرف روبکارعدالت میں جمع کرائی جائے تاکہ کیس کی کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھائی جا سکے۔
