آزاد کشمیر حکومت نے گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج پر نکلی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر بھارت سے فنڈنگ لینے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کا قتل کرنے، اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات لگاتے ہوئے انہیں خود کو قانون کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیکریٹری اطلاعات و ترجمان حکومت آزاد کشمیر محمد راشد حنیف اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس ڈی آئی جی عرفان مسعود کشفی نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، جبکہ عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند اور ذیلی قوم پرست عناصر نے ہائی جیک کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی عوام کو سستا آٹا اور سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے بھاری سبسڈی دے رہی ہے، اس لیے بنیادی حقوق اور مراعات واپس لینے سے متعلق تاثر درست نہیں۔
سیکریٹری اطلاعات نے مزید کہا کہ کالعدم کمیٹی کی جانب سے دی گئی 5 جولائی کی ہڑتال کی کال کو عوام اور تاجروں نے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی ماضی کے پرتشدد واقعات کے باعث پابندی کا سامنا کر رہی ہے اور اب انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی کے سرغنوں اور شرپسند عناصر کے خلاف 79 مقدمات درج ہیں، جبکہ ملک دشمن عناصر کو بھارت سے فنڈنگ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کمیٹی کی جانب سے ریاست کے مختلف علاقوں میں سرکاری دفاتر، پولیس اور انتظامیہ پر حملے کیے گئے، اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، اسلحہ چھینا گیا، سرکاری گاڑیاں نذر آتش کی گئیں اور متعدد پولیس اہلکار و شہری جاں بحق یا زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا
حکام کے مطابق راستے بند کرنے کے لیے سینکڑوں درخت کاٹے گئے، راشن سے بھرے ٹرک لوٹے گئے، مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے انہیں اعلانات کے لیے استعمال کیا گیا اور سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے ذریعے حکومت مخالف پروپیگنڈا کیا گیا۔
آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 17 احتجاجی کارندوں سے مہلک ہتھیار اور کیلوں والے ڈنڈے برآمد کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 جولائی کی فائرنگ کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ریاست مستند فوٹیج پیش کرنے کا چیلنج کرتی ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کی آوازیں ہجوم میں موجود مسلح افراد کی تھیں، جبکہ 5 جولائی کو ڈڈیال میں فائرنگ سے 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
انہوں نے ایکشن کمیٹی قیادت سے خود کو قانون کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور من گھڑت خبروں پر کان نہ دھریں اور معلومات صرف مستند ذرائع سے حاصل کریں۔
