ایس آئی ایف سی کی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آگئے،سیمنٹ سیکٹر میں بھی بڑی پیشرفت ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق 7 نئےسیمنٹ پلانٹس کے لیے 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری منظور ہوگئی ، ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے فلیئنگ اور لکی سیمنٹ کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ۔
سہولت کاری کے نتیجے میں لکی سیمنٹ نے کراچی پلانٹ کی اپ گریڈیشن مکمل کر لی،کراچی پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 3 لاکھ ٹن اضافے سے 5.35 ملین ٹن ہو گئی۔پلانٹ کی اپ گریڈیشن سے فیول کی بچت اور کوئلے کے استعمال میں کمی ہوگی۔
لکی سیمنٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھ کر 15.6 ملین ٹن سالانہ ہو گئی،ایس آئی ایف سی کے تعاون سے صنعتی منصوبوں سے برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔
ملک کے شمالی شہروں میں سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی
دوسری جانب آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) نے مالی سال 2025-26 کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق ملک میں سیمنٹ کی مجموعی کھپت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برآمدات میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی کھپت گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 7.21 فیصد بڑھ کر 5 کروڑ 5 لاکھ 15 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جو تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی طلب میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں مقامی کھپت 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4 کروڑ 15 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق ترقیاتی منصوبوں، ہاؤسنگ سیکٹر اور نجی تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث مقامی فروخت میں اضافہ ہوا۔
سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر9فیصد اضافہ ریکارڈ
اے پی سی ایم اے کے مطابق مالی سال کے دوران سیمنٹ کی برآمدات 2.19 فیصد کمی کے بعد 90 لاکھ 8 ہزار ٹن رہیں۔ برآمدی حجم میں کمی کے باوجود مقامی طلب میں اضافے نے مجموعی فروخت کو سہارا دیا۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبوں اور تعمیراتی سرگرمیوں کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ مالی سال میں بھی سیمنٹ کی مقامی طلب میں مزید اضافے کی توقع ہے، جو ملکی تعمیراتی اور صنعتی شعبے کے لیے مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
