اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی سے متعلق دائر درخواستوں پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے حقائق پر مبنی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر دونوں قیدیوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے تو یہ کس مجاز اتھارٹی کے حکم پر کیا گیا، کس قانون کے تحت انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور اس کی مدت کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو یہ بھی ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل میں موجودہ حالت اور جیل رولز کے مطابق فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی ختم کرنے کی درخواستوں پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات اور چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کیخلاف دائر درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ نمبر لگانے کی ہدایت کی تھی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خانم اور مبشرہ خاور مانیکا کی درخواستوں پر سماعت کی تھی، دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ علیمہ خانم، شاندانہ گلزار اور دیگر رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس نے متاثرہ فریق نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا، حالانکہ علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی کی بہن اور مبشرہ خاور مانیکا بشریٰ بی بی کی بیٹی ہیں، اس لیے انہیں درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی سے دسمبر کے بعد ملاقات نہیں ہو سکی جبکہ بانی پی ٹی آئی سے صرف دو مرتبہ چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ملاقات ہوئی، بانی پی ٹی آئی کو نہ ٹی وی اور نہ ہی اخبار فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ دونوں میاں بیوی گزشتہ سات ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں، جو غیر انسانی سلوک کے مترادف ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت
جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود کو روسٹرم پر طلب کیا، نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلوں کی سماعت کے دوران قیدِ تنہائی سے متعلق متفرق درخواست پہلے ہی مسترد ہو چکی ہے لہٰذا یہ معاملہ آئینی درخواست کے ذریعے نہیں اٹھایا جا سکتا بلکہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قید تنہائی سے متعلق ان کی درخواست مسترد نہیں ہوئی اور اگر ایسا ہوا ہوگا تو وہ اس کی مصدقہ نقل عدالت میں پیش کر دیں گے، چیف جسٹس کے بینچ نے اس معاملے پر کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستوں کو نمبر لگانے کی ہدایت جاری کی تھی، عدالت نے اس موقع پر کہا تھا کہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا معاملہ جوڈیشل سائیڈ پر دیکھا جائے گا۔
