استنبول: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو ایک بار پھر پورے خطے کو بارود اور خون کی بو میں جھونکنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ اور اس پیش رفت نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید پیدا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ اسرائیل کے اشتعال انگیز اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جنگ کی عادی اسرائیلی حکومت کو ہرگز یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ دوبارہ پورے خطے کو جنگ، تباہی اور خونریزی کی طرف دھکیل دے۔
دوسری جانب اسرائیلی انٹیلیجنس نے ایرانی جوہری پروگرام پر اپنے ہی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب موساد اور اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس سمیت متعلقہ اداروں نے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کے دعوے کی توثیق سے انکار کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم آفس نے انٹیلی جنس اداروں سے سرکاری مؤقف کی حمایت کرنے کی کوشش کی۔ تاہم حکام نے پیشہ ورانہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے غیر مصدقہ دعوے کی تائید سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے غیر ملکی اعزازات پر سوالات اٹھ گئے، بھارت میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے نیتن یاہو کے دعوے کو دستیاب شواہد سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا۔ جس کے باعث وزیر اعظم آفس، موساد اور فوجی انٹیلی جنس کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔
