لاہور میں مبینہ طور پر اغوا اور زیادتی کا شکار بننے والی 2 غیر ملکی خواتین میں سے ایک کا بیانِ حلفی منظر عام پر آیا ہے جس میں متاثرہ خاتون نے ملزمان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
بیان حلفی میں غیر ملکی خاتون نے بتایا کہ ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری کہانی بھی دوسری متاثرہ خاتون جیسی ہے لیکن میرا اس گھر میں قیام کا تجربہ مختلف ہے۔
وقوعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی رات 4 مسلح لوگ آئے اور ہمیں باندھ کر کمرے میں بھیج دیا، اس دوران سیاہ لباس میں ملبوس شخص نے میرے منہ پر زوردار گھونسے بھی مارے، اس نے میرے جوتے بھی اتروا کر خود پہن لیے تھے۔
بیان میں خاتون نے مزید کہا کہ پھر وہاں ایک شخص آیا اور مجھ سے کمپیوٹر اور پیسوں کے بارے میں پوچھا، میں نے بتایا دونوں چیزیں سبز بیگ میں رکھی ہیں۔ دوسری خاتون کو دوسرے کمرے سے دوبارہ لایا گیا تو اس شخص نے ہم سے پیسوں اور پاسورڈ کا مطالبہ کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ پھر مجھے دوسری منزل کے کمرے میں لےجایا گیا جہاں ایک ایسا شخص موجود تھا جو مسلح آدمیوں سے الگ تھلگ تھا اور بہت اچھی انگریزی بول سکتا تھا، میں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے؟ اس نے کہا کہ اگر پیسے نہ دیے تو وہ ہمیں مار دیں گے۔
خاتون نے مزید کہا کہ کچھ دیر بعد یہ شخص نیچے چلا گیا اور تین مسلح افراد کمرے میں آ گئے، ایک بڑی عمر کے شخص کے ہاتھ میں رائفل تھی، وہ دو آدمیوں کو مجھ پر نظر رکھنے کا کہہ کر باہر چلا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے اس کیس میں 4 افراد کو گرفتار کرکے عدالت سے ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ غیر ملکی خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی میں کاروباری شراکت داری تھی اور ملزمان خواتین سے کرپٹو کی مد میں بڑے منافع کے دعویدار تھے۔
