لاہور پولیس نے دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ اغوا، جنسی تشدد اور تاوان کے لیے یرغمال بنانے کے واقعے میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بازیاب کرا لیا۔
چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف اغوا برائے تاوان، زیادتی، جنسی تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین میں ایک کا تعلق نیدرلینڈز اور دوسری کا وینزویلا سے ہے، دونوں خواتین پاکستان ایک ایسے پاکستانی شہری کی دعوت پر آئی تھیں جس سے ان کی ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ہوئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم محمد رضا ڈار نے خواتین کے پاکستان آنے کے لیے ویزوں کا بھی انتظام کیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون کے والد نے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی کہ ان کی بیٹی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
اطلاع ملنے پر لاہور پولیس نے سیف سٹی اتھارٹی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا اور کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ڈیفنس سی تھانے میں مقدمہ نمبر 1560/26 درج کیا گیا ہے، جس میں اغوا برائے تاوان، زیادتی، جنسی تشدد اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ 29 جون کو محمد رضا ڈار، اس کے مبینہ “باس” اور دیگر ساتھیوں نے انہیں اغوا کر کے قید رکھا اور رہائی کے بدلے 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔
خواتین کا کہنا ہے کہ ملزمان انہیں مسلسل قتل کی دھمکیاں دیتے رہے اور تاوان ادا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔متاثرہ خواتین نے اپنے بیانات میں متعدد ملزمان پر جنسی زیادتی اور جنسی تشدد کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں خواتین کا طبی معائنہ کرایا جا چکا ہے اور انہوں نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرا دیے ہیں۔
نظام انصاف میں بہتری عدالتی فیصلوں سے نہیں ان پر مؤثر عملدرآمد سے ممکن ہے، چیف جسٹس
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش فرانزک اور دیگر شواہد کی بنیاد پر جاری ہے۔ حکام کے مطابق نامزد ملزمان میں سے ایک بااثر سیاسی شخصیت کا قریبی رشتہ دار بھی ہے، تاہم تحقیقات میرٹ پر کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کے سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔
پولیس کے مطابق پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت کے مطابق واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں۔
