لندن، برطانوی حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے آئندہ 10 برسوں کے دوران 45 ہزار مزید غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کو برطانیہ سے ملک بدر یا بے دخل کرنے کا بڑا منصوبہ سامنے رکھ دیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق ملک بدری کے عمل کو تیز، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے امیگریشن ریموول سینٹرز (حراستی مراکز) کی گنجائش میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے مختلف حراستی مراکز میں ایک ہزار نئے بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بدری کے منتظر افراد کو زیادہ مؤثر انداز میں حراست میں رکھا جا سکے اور انہیں طویل عرصے تک کمیونٹی میں آزاد رہنے کا موقع نہ ملے۔
برطانوی حکام کے مطابق اس منصوبے سے خاص طور پر غیر ملکی مجرموں، غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، پیدائشی شہریت محدود کرنے کا حکم مسترد
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو جلد حراست میں لے کران کی ملک بدری کے عمل کو ممکنہ حد تک مختصر وقت میں مکمل کیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امیگریشن نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور سخت بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی سلامتی کو مضبوط کرنا، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی حوصلہ شکنی کرنا اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
برطانوی حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے مستقبل میں بھی مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے اور ملک بدری کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا تاکہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت کے مطابق نئی حکمت عملی کا مقصد برطانیہ میں صرف قانونی اور ضابطے کے مطابق امیگریشن کو فروغ دینا اور غیر قانونی قیام کے امکانات کو کم سے کم کرنا ہے۔
