ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا ایران معاہدے میں عالمی برادری نے پاکستان کے تعمیری کردار کو تسلیم کیا ہے۔
ترجمان طاہر اندرابی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی ، اس حوالے سے عالمی برادری نے پاکستان کے تعمیری کردار اور کوششوں کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر آئی ایم او یو کے فریم ورک کے تحت پہلے اعلی سطح اجلاس کی میزبانی کی ، وزیراعظم شہباز شریف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر مذاکرات میں شامل ہوئے۔
عالمی برادری ریاستوں کی سالمیت کااحترام یقینی بنائے، ترجمان دفترخارجہ
ترجمان کا کہنا تھا کہ اعلی مذاکرات کار باقاعدگی سے اعلی سطح کمیٹی کو مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کریں گے ،پاکستان اور قطر آنے والے ہفتوں میں امریکی اور ایرانی ٹیکنیکل ٹیمز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے۔پاکستان مختلف ممالک اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اپنے مثبت اور تعمیری کردار کے بارے میں ریمارکس کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ 21 جون کو آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کا چوتھا اجلاس قاہرہ میں ہوا، آر 4 وزرائے خارجہ اجلاس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا جائزہ لیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شریک ممالک کے وزرائے خارجہ کے مصری صدر سے ملاقات بھی ہوئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ 12 اور 13 جون کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جبکہ اٹلی، جاپان، چین، ترکیہ، مصر، کینیڈا، قطر، بحرین، ایران، ازبکستان اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے گئے۔
صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی محفوظ رہائی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ جبوتی سے پاکستانی سفارتی ٹیم صومالیہ کا دورہ کر رہی ہے اور سفارتی ذرائع، دوست ممالک، مقامی این جی اوز اور انصار برنی سمیت مختلف چینلز کے ذریعے رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔
بھارت میں اقلیتوں پر مظالم انتہائی تشویشناک ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ رواں ہفتے پاکستان نے 30 ایرانی شہریوں کی اپنے وطن واپسی ممکن بنائی، جن میں 8 ایرانی ماہی گیر اور 22 ملاح شامل تھے۔
ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشنز (یو این پیس کیپرز) کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے پاکستان اور ڈنمارک کی مشترکہ قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں یو این پیس کیپرز پر حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بدزبانی معمول کا حصہ بن چکی ہے اور یہ پاکستان کے لیے کوئی حیران کن بات نہیں۔
ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہو چکی ہے، تاہم اس کی حتمی حیثیت کے تعین کے لیے مختلف فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے آبنائے ہرمز کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی توجہ مستقبل پر مرکوز ہے اور ہم خطے میں استحکام، سفارت کاری اور تعمیری تعاون کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتا رہیں گے۔
