عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں برینٹ کروڈ تقریباً 76 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 72 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں بہتری اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نسبتاً کمی ہے، جس سے عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
ایران کو 21اگست تک تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت اور بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کی خبروں نے بھی مارکیٹ کے اعتماد کو بہتر کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے تیل کی رسد میں استحکام کی توقع ظاہر کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں حالات مزید بہتر رہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر آتی رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی جغرافیائی کشیدگی کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ اضافہ بھی ممکن ہے۔
