ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی اپنی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرانے سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کے لیے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو رسائی نہیں دی جائے گی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ فردو، نطنز اور اصفہان سمیت وہ تمام جوہری مراکز جو حالیہ حملوں میں نشانہ بنے فی الحال آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے لیے بند رہیں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے ، کوئی ملک ٹول یا فیس وصول نہیں کر سکتا ، امریکی وزیر خارجہ
انہوں نے کہا کہ ان حساس مقامات تک رسائی کا فیصلہ قومی سلامتی اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ، حملوں کے بعد تنصیبات کی صورتحال کا جائزہ متعلقہ ایرانی ادارے لے رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ غیر معمولی سکیورٹی حالات میں متاثرہ جوہری مراکز تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی ممکن نہیں ہو گی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ایسی کسی بھی قسم کی نگرانی یا معائنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی نیا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت اپنے موجودہ طریقہ کار پر عمل جاری رکھے گا۔
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کے وسیع اور طویل المدتی معائنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے نہ تو کوئی معاہدہ ہوا ہے اور نہ ہی عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ حملوں سے متاثرہ جوہری مقامات کے معائنے کے لیے پہلے واضح قانونی اور تکنیکی طریقہ کار طے ہونا چاہیے، اس کے بغیر کسی بھی قسم کے معائنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
