ڈائریکٹر جنرل عالمی جوہری توانائی ایجنسی رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ آخرکار ضرور کیا جائے گا۔
رافیل گروسی کا کہنا تھا کہ یہ بات اہم نہیں کہ معائنہ دو دن بعد ہو گا، ایک ہفتے میں یا دس دن بعد، لیکن معائنہ بہرحال کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عالمی ادارہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور شفافیت کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کردار جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی اپنی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرانے سے انکار کر دیا ہے۔
ایران کا آئی اے ای اے کو جوہری تنصیبات کا معائنہ کرانے سے انکار
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کے لیے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو رسائی نہیں دی جائے گی۔
پاکستان نے ہر مرحلے پر مخلصانہ اور انتھک کوششیں کیں، ایرانی صدر
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ فردو، نطنز اور اصفہان سمیت وہ تمام جوہری مراکز جو حالیہ حملوں میں نشانہ بنے فی الحال آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے لیے بند رہیں گے۔
حملوں کے بعد تنصیبات کی صورتحال کا جائزہ متعلقہ ایرانی ادارے لے رہے ہیں ، اسماعیل بقائی
انہوں نے کہا کہ ان حساس مقامات تک رسائی کا فیصلہ قومی سلامتی اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ، حملوں کے بعد تنصیبات کی صورتحال کا جائزہ متعلقہ ایرانی ادارے لے رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ غیر معمولی سکیورٹی حالات میں متاثرہ جوہری مراکز تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی ممکن نہیں ہو گی۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت موجودہ طریقہ کار پر عمل جاری رکھیں گے ، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
اسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ایسی کسی بھی قسم کی نگرانی یا معائنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی نیا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت اپنے موجودہ طریقہ کار پر عمل جاری رکھے گا۔
منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر دستخط ہو گئے ، ایرانی اسپیکر کی تصدیق
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کے وسیع اور طویل المدتی معائنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے نہ تو کوئی معاہدہ ہوا ہے اور نہ ہی عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ حملوں سے متاثرہ جوہری مقامات کے معائنے کے لیے پہلے واضح قانونی اور تکنیکی طریقہ کار طے ہونا چاہیے، اس کے بغیر کسی بھی قسم کے معائنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
