ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوگئی۔
رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 140اے سے متعلق آئینی ترمیم پر وفاقی حکومت نے یقین دہانی کروا دی،بلدیاتی نظام کی آئینی ترمیم کیلئے 8 رکنی مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق ہوا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں،ایم کیو ایم پاکستان
ن لیگ اور ایم کیو ایم کی مشترکہ کمیٹی سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی،سندھ کی گورنر شپ ایم کیو ایم کا آئینی و سیاسی حق ہے،سندھ کی گورنر شپ ایم کیو ایم پاکستان کو دینے کا مطالبہ برقرار ہے۔
وزیراعظم نے گورنر شپ کے معاملے پر بات چیت کی یقین دہانی کرائی،ایم کیو ایم وفاقی حکومت کی مضبوط اتحادی جماعت ہے۔
دوسری جانب گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم کامران ٹیسوری کو ہٹانے کے فیصلے پر نظرثانی کریں اور انہیں دوبارہ ان کے عہدے پر بحال کیا جائے۔
گلگت بلتستان انتخابات:ایم کیو ایم امیدوار لیگی امیدوار کے حق میں دستبردار
انہوں نے کہا کہ ٹیسوری کی برطرفی کا فیصلہ پارٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا، جو کہ مناسب طرزِ عمل نہیں۔ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم سے ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کو نظرانداز کر کے گورنر سندھ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا، تاہم ایم کیو ایم کی کوشش ہوگی کہ آئندہ بھی گورنر سندھ کا عہدہ اسی کے پاس رہے۔
امین الحق نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے اور آئندہ دنوں میں اس پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
