پاکستان کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کے حملے اشتعال انگیز ہیں،انہیں رکنا چاہیے۔
وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے العریبہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں 3 تکنیکی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں ،تکنیکی کمیٹیاں ایران کے جوہری پروگرام ، منجمد فنڈز اور لبنان پر بحث کررہی ہیں۔
ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار زبردست رہا، امریکی نائب صدر
آبنائے ہرمز میں صورتحال جنگ سے پہلے جیسی ہونی چاہیے،60دن تک آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد ورفت پر کوئی ٹرانزٹ فیس عائد نہیں کی جائے گی۔
بحری جہاز اس وقت آبنائے ہرمز سے دونوں سمتوں میں سفر کر رہے ہیں،امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی جاری رکھیں گے،ہمیں یقین ہے کہ امریکا اور ایران حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے ، ہم اس کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتے ہیں،امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ میں آنے والے دن مزید مشکل ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر عظیم انسان ، ایران سے ڈیل میں پاکستان نے مدد کی ، ٹرمپ
ہماری ثالثی کی کوششیں پہلے دن سے ہی سرگرم ہیں،ثالثی کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں،امریکا اور ایران کے درمیان جنگ تباہ کن تھی اور اس کے معیشت پر منفی اثرات تھے۔
امریکا اور ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے، ہم نے جنگ بندی حاصل کر لی،47سالوں میں پہلی بار امریکا اور ایران کو ایک میز پر اکٹھا کرنے میں کامیاب رہے۔
