کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین آمنے سامنے آگئے۔ متنازعہ بیان پر متنازعہ بیان پر صوبائی وزیر داخلہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہوگئی جب ایم کیو ایم کے رکن فرحان انصاری کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین آمنے سامنے آگئے اور ایوان میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
بحث کے دوران ماحول اس وقت مزید گرم ہوا جب ایم کیو ایم کے رکن کی جانب سے دیے گئے ایک بیان پر اعتراض اٹھایا گیا۔ حکومتی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس بیان میں مبینہ طور پر “بوری بند لاشوں” کی دھمکی شامل تھی، جس پر شدید احتجاج کیا گیا اور ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایوان میں نکتہ اعتراض پر کہا کہ فرحان انصاری کی تقریر پر تحقیقات کی جائیں گی اور اس معاملے کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ واقعے کی نگرانی کی جائے اور تمام ریکارڈ اور ویڈیوز کا جائزہ لیا جائے۔
ایم کیو ایم کے رکن فرحان انصاری نے اس سے قبل فاروق اعوان کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے ان پر تنقید کی تھی اور انہیں متنازع معاملات سے جوڑ کر بات کی تھی، جس پر پیپلز پارٹی کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اسمبلی اسپیکر اویس قادر شاہ نے کہا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایوان کی کارروائی، ریکارڈ اور ویڈیو کا جائزہ لیا جائے گا اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم نے 9، 10 محرم کی چھٹیوں کی منظوری دے دی
دوسری جانب ایم کیو ایم کے رکن طحہ احمد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحقیقات یکطرفہ نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تمام متعلقہ بیانات اور واقعات کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
