تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی منصوبے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک غزہ سے اپنے فوجی واپس نہیں بلائے گا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل غزہ سے متعلق پیش کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ منصوبے کو قبول نہیں کرتا اوراس حوالے سے اسرائیل کا مؤقف واضح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اسرائیل کی بنیادی شرائط میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول تک اسرائیلی فوج کی غزہ سے واپسی ممکن نہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے بعض تجاویز پیش کی گئی ہیں، تاہم ان میں کچھ خیالات ایسے ہیں جنہیں اسرائیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں سمجھتا۔
View this post on Instagram
نیتن یاہو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے انتظام سے متعلق اسرائیل اور امریکا کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
اسرائیلی حکومت حماس کی عسکری صلاحیت ختم کرنے کو غزہ سے فوجی انخلا سے پہلے ضروری قرار دے رہی ہے۔
امریکا کی جانب سے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی تک بات چیت نہیں ہو گی، ایرانی وزیر خارجہ
نیتن یاہو نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اپنے فوجی مقاصد کے حصول تک پالیسی میں تبدیلی نہیں کرے گا، جبکہ حماس کے غیر مسلح ہونے کو کسی بھی مستقبل کے انتظام کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
بعد ازاں نیتن یاہو نے ایک بار پھر ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل ہو یا کسی معاہدے کے بغیر، اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کیساتھ کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، جب تک وہ اسرائیل کے وزیراعظم ہیں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
