آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ کشمیری عوام کے تاریخی اور نظریاتی رشتے کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کشمیری رہنماؤں نے پاکستان مخالف سرگرمیوں، حالیہ احتجاجی واقعات اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر شدید تنقید کی۔
سابق وزیراعظم سردار عتیق اور شاہ غلام قادر نے واضح کیا کہ کشمیر کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ بھارت کا ایجنڈا کسی صورت نہیں چلنے دیا جائے گا، کالعدم ایکشن کمیٹی انتشار پھیلانے کے درپے ہے۔
لیک مبینہ آڈیو پرحکومت متحرک، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیخلاف تحقیقات کا اعلان
انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران اسپتالوں، سڑکوں اور سیکیورٹی اداروں پر حملے کیے گئے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف بیانیہ برداشت نہیں کیا جائے گا ، پاکستانی افواج کے خلاف بغاوت پر اکسانا دشمن کا ایجنڈا ہے۔
سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مطالبات منظور ہونے کے باوجود تحریک کو آئینی اور سیاسی تنازعے کی طرف موڑا گیا چکسواری، پلندری اور دیگر علاقوں میں اربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ، احتجاج کے دوران ہونے والے جرائم کے 170 سے زائد مقدمات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ پرامن جدوجہد کشمیری سیاست کی روایت رہی ہے، تاہم ریاستی اداروں اور عوامی املاک پر حملے ناقابل قبول ہیں۔
سردار عتیق نے مزید کہا کہ تحریک آزادی کشمیر نظریہ پاکستان اور الحاق پاکستان پر قائم ہے،پاکستان اور کشمیر کے رشتے پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انتشار کے نتیجے میں 3 سے 4 ارب روپے کا نقصان ہوا، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کی ایکشن کمیٹی کو خطرناک نتائج کی وارننگ
خاتون رہنما نبیلہ ایوب نے کہا کہ پاکستان اور افواج پاکستان کا کردار آزاد کشمیر کے امن و استحکام کی ضمانت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے۔عوامی حقوق کے لیے جدوجہد ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن مطالبات کی آڑ میں انتشار، فساد اور تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں۔
دریں اثنا وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ اگر یہ گروہ عوام کا اتنا خیرخواہ ہے تو انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کا مقصد امن خراب کرنا ہے اور مظاہرین کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے گھروں کو واپس جانا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی امن و امان کو نقصان پہنچا رہی ہے اور لوگوں کو نشانہ بنا کر اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔
