ویتنامی پولیس نے ہو چی منہ شہر میں بڑے آپریشن کے دوران گوشت کی تجارت کے لیے چرائی گئی 400 سے زائد بلیاں بازیاب کرتے ہوئے 9 افراد کو گرفتار کر لیا۔
مقامی میڈیا اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے اداروں کے مطابق پالتو جانوروں کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی تحقیقات کے دوران پولیس کو بلیوں کے گوشت کی غیر قانونی تجارت کے منظم نیٹ ورک کا سراغ ملا، جس کے بعد کئی روز تک آپریشن کیا گیا۔
پولیس نے کارروائی کے دوران 45 پنجرے برآمد کیے جن میں 400 زندہ بلیاں موجود تھیں، اس کے علاوہ برف سے بھرے چار فوم کنٹینرز سے 80 مردہ بلیاں بھی ملیں جبکہ ایک دوسرے مقام سے مزید 21 زندہ بلیاں برآمد کی گئیں۔
میکسیکو میں ایک بطخ نے فٹبال ورلڈ کپ چرا لیا
جانوروں کی فلاح کے اداروں کے مطابق بازیاب بلیوں میں سے 40 سے زائد کو ان کے مالکان کے حوالے کر دیا گیا، تاہم نامناسب حالات میں رکھے جانے کے باعث کئی درجن بلیاں ہلاک ہو چکی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے گزشتہ تین برس سے جنوبی ویتنام کے مختلف علاقوں میں بلیوں کو پکڑ کر جمع کرتے رہنے کا اعتراف کیا ہے۔
ہیومن ورلڈ فار اینیملز ویتنام کے ڈائریکٹر فوونگ فام کے مطابق ملک بھر میں ہر ماہ ہزاروں بلیاں چرا کر اسمگل کی جاتی ہیں اور گوشت کے لیے ذبح کر دی جاتی ہیں۔ خوش قسمتی سے اس کارروائی میں سیکڑوں جانوروں کو بچا لیا گیا۔
دبئی ائیرپورٹ پر زندہ چھپکلیاں، بچھو، سانپ اور مینڈک برآمد
ویلفیر ورکر کے مطابق متعدد خاندان اپنی گمشدہ بلیوں کی تلاش میں آئے، جن میں سے بعض اپنی بلیوں کو واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ بہت سے افراد کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ ویتنام میں کتے اور بلی کے گوشت کے استعمال کی اجازت ہے تاہم تاجروں کو اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ دوسری جانب بعض شہروں نے جانوروں کی فلاح و بہبود کی عالمی تنظیموں کے تعاون سے کتے اور بلی کے گوشت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔
