وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے اکنامک سروے آف پاکستان 2025-26 کے مطابق ملک کی آبادی بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ شرحِ اضافہ 2.07 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کے اندازوں کے مطابق 2025 میں مردوں کی تعداد 12 کروڑ 96 لاکھ اور خواتین کی تعداد 12 کروڑ 24 لاکھ 50 ہزار رہی۔ صوبائی لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں آبادی 13 کروڑ 33 لاکھ ہے، اس کے بعد سندھ 5 کروڑ 82 لاکھ، خیبر پختونخوا 4 کروڑ 26 لاکھ اور بلوچستان 1 کروڑ 52 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔
لیبر فورس سروے 2024-25 میں کل آبادی میں سے مجموعی لیبر فورس 8 کروڑ 31 لاکھ سے زائد رہی، جس میں سے 7 کروڑ 72 لاکھ افراد برسرِ روزگار جبکہ تقریباً 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مالی سال 2026 میں 90 ہزار 550 افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی۔
اسی طرح وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت جولائی تا فروری 2026 کے دوران 58 ارب روپے کے قرضے ایک لاکھ 14 ہزار 815 مستفید افراد کو جاری کیے گئے۔
وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت جولائی تا مارچ 2026 کے دوران میرٹ پر 72 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔
اقتصادی سروے کے مطابق 2025 کے دوران بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ میں 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد نے بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کرائی، جبکہ وزارت اوورسیز پاکستانیز نے 75 نئے لائسنس جاری کیے، جس کے بعد لائسنس ہولڈرز کی مجموعی تعداد 2 ہزار 697 ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں آبادی میں تیز رفتار اضافے، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے حکومتی اقدامات کو معیشت کے اہم چیلنجز اور ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔
