امریکا نے ایران پر نئے حملے موخر کر دیے، عمانی ثالثی سے مذاکرات میں آبنائے ہرمز کے بارے میں بڑی پیشرفت کا امکان ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ گزشتہ 13 روز سے روزانہ ایران پر حملوں کی منظوری دیتے رہے، تاہم جمعہ کو انہوں نے تازہ حملے روکنے کا حکم دیا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ عمانی وفد کے تہران پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ وفد آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدے پر بات چیت کے لیے ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہفتے کے آخر تک آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی معاہدے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔
🚨TRUMP HALTED PLANNED IRAN STRIKES FRIDAY NIGHT!
President Trump directed the U.S. military not to execute strikes on Iran that had previously been approved for Friday night, according to reporting from Axios.
The decision came hours after Oman-mediated talks aimed at… pic.twitter.com/Rn8jE49DZu
— Crypto Banter (@crypto_banter) July 25, 2026
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے اس مقصد کے تحت مؤخر کیے تاکہ تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا ایک اور موقع دیا جا سکے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایرانی حکام کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں نئی بحری گزرگاہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان جون میں طے پانے والی عبوری مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ کے طریقہ کار اور راستوں کے تعین کا اختیار ایران کو حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو کسی بھی نئے راستے سے قبل تہران سے مشاورت کرنی چاہیے تھی، کیونکہ دونوں ممالک نے ایسے تنازعات کے حل کے لیے براہِ راست رابطے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم بنیادی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد کے باعث مذاکرات میں تاحال نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید بڑے حملوں کی سابقہ دھمکی میں نسبتاً نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام امریکا سے رابطے میں ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کا مؤقف سننے کے لیے تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے انتظامات ایران خود طے کرے گا، عباس عراقچی
ادھر تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات بڑے ایرانی شہروں پر کوئی امریکی حملہ نہیں ہوا، جسے حالیہ کشیدگی میں عارضی کمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا اہم مرکز بن گیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اس کی مقرر کردہ گزرگاہوں اور قواعد پر عمل کرنا ہوگا، جبکہ امریکا اس مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل نہیں۔
