عاصمہ کنڈی
گلگت بلتستان میں ووٹ کی پرچی تھامنے والے ہاتھوں میں تقریباً آدھے خواتین کے ہیں۔ تاہم جب 7 جون 2026 کو خطہ پولنگ کے لیے جا رہا ہے تو تقریباً پانچ لاکھ خواتین ووٹرز اپنے بیلٹ پر نظر ڈالیں گی تو انہیں ووٹ دینے کے لیے خواتین امیدوار تقریباً نہیں ملیں گی۔
24حلقوں میں 396 امیدواروں کے مقابلے میں 98 فیصد مرد ہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں خواتین معیشت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، آنے والے اسمبلی انتخابات ایک واضح جمہوری خلا کو بےنقاب کر رہے ہیں۔
خواتین رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریبأ 47 فیصد ہے مگر امیدواروں میں ان کی نمائندگی صرف 2 فیصد ہے۔اگرچہ امیدواروں کی مجموعی تعداد سطح پر سیاسی سرگرمی کی نشاندہی کرتی ہے، مگر اس کے نیچے ایک گہرا جمہوری عدم توازن موجود ہے۔ سیاسی منظرنامے کا پیغام واضح ہے: خواتین کو ووٹ تو ڈالنے دیا جائے، لیکن قیادت کرنے کی توقع نہیں رکھی جائے۔
پارٹی ٹکٹ بمقابلہ آزاد امیدواروں کی ہمت
آٹھ خاتون امیدواروں کی تفصیل اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے۔ علاقے کی بڑی سیاسی مشینری کے بجائے ان میں سے زیادہ تر اپنی جدوجہد خود لڑ رہی ہیں۔ صرف تین خواتین کو سرکاری پارٹی ٹکٹ ملا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے آمنہ انصاری ، استحکام پاکستان پارٹی نے جمیلہ خاتون اور پاکستان نظریاتی پارٹی نے سیدہ خالدہ کو نامزد کیا ،باقی پانچ خواتین آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی پارٹی سٹرکچر، ادارہ جاتی فنڈنگ یا منظم مشینری کے میدان میں اتر کر بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان میں قابل ذکر ناموں میں گلشاد بی بی شامل ہیں جنہیں پی ایم ایل این کی مقامی سپورٹ حاصل ہے، اور شاہدہ خورشید جنہیں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری طرف مرکزی سیاسی قیادت صنفی شمولیت کے امتحان میں ناکام رہی ہے۔ پی ایم ایل این نے 22، اور آئی پی پی نے 15 امیدوار کھڑے کیے، مگر ان کی آفیشل ٹکٹوں میں خواتین تقریباً غیر موجود ہیں۔ مذہبی اور علاقائی پارٹیاں جیسے جے یو آئی ایف اور مجلس وحدت المسلمین نے ایک بھی خاتون کو جنرل سیٹ پر نامزد نہیں کیا۔
داخلے کی گہری رکاوٹیں
یہ انتہائی کم شرکت اتفاقی نہیں بلکہ ساختہ اور سماجی رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ روایتی سماجی اقدار، محدود مالی وسائل، پارٹیوں کی طرف سے رہنمائی کی عدم موجودگی اور سیکیورٹی کے مسائل گلگت بلتستان میں خواتین کو انتخابی سیاست میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
بڑی پارٹیاں اپنے تقریروں میں صنفی برابری کا خوب نعرہ لگاتی ہیں، مگر جیسے ہی نامزدگی کا مرحلہ آتا ہے تو یہ حمایت غائب ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں موجود ہیں، مگر جنرل سیٹوں پر براہ راست مقابلہ بہت کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو آزاد الیکشن لڑنے کا بھاری خطرہ اٹھانا پڑتا ہے۔
پی پی پی کا تنقیدی موقف
پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی انفارمیشن سیکرٹری سعدیہ دانش نے ہم نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں خواتین کی سیاسی نمائندگی محدود ہے اور زیادہ تر پارٹیاں الیکشن کمیشن کے کم از کم پانچ فیصد کوٹہ کی حد تک ہی خواتین کو ٹکٹ دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے گلگت بلتستان میں اس کوٹہ کی پابندی کرتے ہوئے ایک مضبوط خاتون امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے، مگر پی ایم ایل این سمیت دیگر پارٹیوں پر تنقید کی کہ انہوں نے کوٹہ کے باوجود ایک بھی خاتون کو نامزد نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں خواتین کی نمائندگی صرف ٹوکن تعمیل تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ سیاسی عمل میں خواتین کے لیے حقیقی جگہ ہونی چاہیے۔
غور و فکر کا لمحہ
آنے والے انتخابات سیاسی جائزے کا اہم موقع فراہم کر رہے ہیں۔ حقیقی بااختیار بنانا نعروں سے ممکن نہیں، اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی سے قابل خواتین کو نامزد کرنا اور ایک جامع سیاسی کلچر بنانا ہو گا۔
پولنگ ڈے کے قریب پہنچتے ہوئے مرکزی سوال یہ ہے کہ نئی اسمبلی گلگت بلتستان کی تقریباً آدھی آبادی کی آوازوں کی حقیقی نمائندگی کرے گی، یا خواتین اس خطے کے جمہوری سفر میں ایک بار پھر پسماندہ رہیں گی؟
پانچ آزاد خاتون امیدواروں کو اس سیاسی یکطرفہ نظام کو چیلنج کرنے پر خصوصی اعتراف کا حقدار ہیں۔ ان کی شرکت، چاہے محدود ہی کیوں نہ ہو، یہ ثابت کرتی ہے کہ حقیقی تبدیلی ہمیشہ بنیادی سطح سے شروع ہوتی ہے۔
