واشنگٹن ٹائمر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران آئندہ 24 گھنٹوں میں امن معاہدے کا اعلان کر سکتے ہیں، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو چکا ہے۔
امریکی روزنامے واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ باقر قالیباف، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے مسودے کی منظوری دی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مسودہ منظوری کے بعدحتمی منظوری کے لیے دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کوارسال کر دی گئی ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اختلافات کے خاتمے کے لیے ایران میں ملاقاتیں کیں۔
رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ ایران اور پاکستان نے جنگ کے خاتمے کے لیے نظرثانی شدہ مسودہ امریکا کو بھیج دیا ہے۔ اور نظر ثانی شدہ مسودے میں آبنائے ہرمز کھولنے کی شق بھی شامل ہے۔ امریکا کا نظرثانی شدہ ایرانی مسودے پر جواب اتوار کو متوقع ہے۔
فنانشنل ٹائمز نے بھی ایران اور امریکا کے معاہدے کے قریب پہنچنے کا دعویٰ کر دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جنگ بندی میں 60 دن کے لیے توسیع کی جائے گی۔ اور اس دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں مرحلہ وار نرمی کرے گا ۔ اہران کو پابندیوں میں ریلیف ، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے بھی واپس کئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت زیادہ قریب ہیں، ٹرمپ
عرب میڈیا نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان چند گھنٹے میں معاہدے کے اعلان کا دعویٰ کر دیا۔
