چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور امریکا سے جاری مذاکرات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Pakistani Army Chief Field Marshal Asim Munir met with Iranian President Masoud Pezeshkian in Tehran for high-level talks to advance diplomatic initiatives.
Follow: https://t.co/B3zXG74hnU pic.twitter.com/YAt0muXJi4
— Press TV 🔻 (@PressTV) May 23, 2026
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی ملاقات رات گئے تک جاری رہی، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مختلف سفارتی اقدامات پر گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھےجس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Field Marshal Asim Munir, Commander of the Pakistan Army, met FM @araghchi in Tehran to discuss diplomatic efforts aimed at preventing further escalation and promoting peace, stability, and security in West Asia. #Iran #Pakistan pic.twitter.com/NccIMh3DD5
— Government of the Islamic Republic of Iran (@Iran_GOV) May 23, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محمد باقر قالیباف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں جمعہ کو تہران پہنچے تھے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں اور پاکستان اس عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سینئر تجزیہ کاروں بشمول منصور علی خان کا ماننا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کا مطلب ہے کہ ایران امریکا ڈیل تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔
