نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے واٹس ایپ فراڈ میں ملوث 15 رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزمان خود کو سرکاری افسر ظاہر کرکے شہریوں کو دھوکا دیتے اور لاکھوں روپے ہتھیاتے تھے۔
واٹس ایپ میں بڑی تبدیلیاں متوقع، سوشل پلیٹ فارم بنانے کی تیاری
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس کے دوران مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گروہ کے اہم ارکان کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان منظم نیٹ ورک کے تحت کام کررہے تھے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے۔
حکام کے مطابق ملزمان جعلی واٹس ایپ اکاؤنٹس اور مختلف نمبرز استعمال کرکے شہریوں سے رابطہ کرتے، خود کو سرکاری اداروں کا افسر ظاہر کرتے اور کبھی انعام، کبھی قانونی کارروائی جبکہ بعض اوقات بینک اکاؤنٹس کی تصدیق کے بہانے لوگوں سے حساس معلومات حاصل کرتے تھے۔ اس کے بعد شہریوں کے اکاؤنٹس سے رقوم نکال لی جاتیں یا مختلف طریقوں سے ان سے رقم وصول کی جاتی تھی۔
این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے 16 موبائل فونز، متعدد جعلی واٹس ایپ اکاؤنٹس، سمیں اور دیگر مشتبہ ڈیجیٹل شواہد برآمد کرلیے گئے ہیں۔ ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات کو فرانزک تجزیے کیلئے لیبارٹری منتقل کردیا گیا ہے تاکہ گروہ کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ متاثرین کا سراغ لگایا جاسکے۔
واٹس ایپ سمیت میٹا ایپس کیلئے سنگل لاگ اِن سسٹم متعارف
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ گروہ کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔
این سی سی آئی اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر موصول ہونے والی مشکوک کالز اور پیغامات سے محتاط رہیں، کسی بھی غیر مصدقہ شخص کو اپنی ذاتی یا بینکنگ معلومات فراہم نہ کریں اور مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
