روس نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت کے ساتھ “مکمل شراکت داری” قائم کر رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی کابل کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے کہا کہ کابل کے ساتھ تعاون خطے کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماسکو طالبان کے ساتھ ایک “عملی اور حقیقت پسندانہ مکالمہ” آگے بڑھا رہا ہے، جس میں سیکیورٹی، تجارت، ثقافت اور انسانی امداد کے شعبے شامل ہیں۔
سرگئی شوئیگو یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران کر رہے تھے، جس میں چین، بھارت، ایران، پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت 10 ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تنظیم کو افغانستان سے متعلق اپنا رابطہ گروپ دوبارہ فعال کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ روس گزشتہ سال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا تھا۔ طالبان نے اگست 2021 میں اس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب امریکا کی قیادت میں غیر ملکی افواج نے 20 سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے انخلا کیا۔
روس نے 2003 میں طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، تاہم اپریل 2025 میں اس پابندی کو ختم کر دیا گیا۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ افغانستان سے لے کر مشرق وسطیٰ تک سرگرم شدت پسند گروہوں کے باعث اسے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر کابل کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
