متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم کے مبینہ دورہ یو اے ای کی تردید کر دی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے مبینہ دورۂ یو اے ای اور کسی بھی اسرائیلی فوجی وفد کی آمد سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کردی۔
یو اے ای وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اسرائیلی وزیراعظم کے کسی خفیہ یا غیر اعلانیہ دورے اور اسرائیلی فوجی وفد کے استقبال سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات کھلے اور واضح انداز میں ابراہام معاہدوں کے تحت جاری ہیں، اور یہ تعلقات کسی غیر شفاف یا خفیہ انتظامات پر مبنی نہیں۔
UAE Denies Reports Regarding Visit by Israeli Prime Minister or Receiving Any Israeli Military Delegation pic.twitter.com/TRX9y5ZoVN
— MoFA وزارة الخارجية (@mofauae) May 13, 2026
وزارت خارجہ نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ خبروں کی اشاعت میں درستگی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات یا گمراہ کن سیاسی بیانیے پھیلانے سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نےایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں امریکی حکام نے بھی تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام اور اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار فراہم کیے تھے۔
میں نے ایران معاملہ ایک میزائل فائر کیے بغیر کامیابی سے حل کیا، باراک اوباما کی ٹرمپ پر شدید تنقید
اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی جنگ کے دوران کم از کم 2 مرتبہ امارات کا دورہ کیا تھا۔ اس سارے معاملے متحدہ عرب امارات کی جانب سے سختی سے تردید کی گئی ہے۔
